میں نے ضد چھوڑ دی

زندگی میں کبھی بھی کتابیں پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ پھر چاہے وہ انگریزی ہو یا اردو کی۔ کئی لوگ حسب معمول مشورے دے دیتے کے کتابیں پڑھا کرو۔ لیکن میں کہاں  کسی کی سنتا تھا۔ ایک اکتاہٹ سی محسوس ہوتی تھی کہ کون اتنا وقت ضائع کرے۔ مجھے تو بس کوئی حاصل تحریر بتا دے۔ اس طرح میرے کند ذہن پر گرد کے انبار لگتے جا رہے تھے۔ سوچ تو جیسے دماغ کے تہہ خانے میں دفن ہوتی جا رہی تھی۔ کبھی کبھی انٹرنیٹ پر موجود پی-ڈی-ایف کتابوں کے سمندر میں سے کوئی ایک قطرہ اس شوق سے منتخب کرکے  ڈاون لوڈ کرتا کہ چلو پنجہ آزمائی تو کی جائے کتابوں سے۔ کتابیں علم کا سمندر ہوتی ہیں۔ اور میری کشتی حد چار صفحوں سے زیادہ سفر کرنا اپنی شان میں گستاخی محسوس کرتی۔ بالآخر میں اس کتاب کو پڑھنا چھوڑ دیتا۔
دو روز قبل ایک قریبی دوست نے پھر مشورہ دیا کہ کتابیں پڑھو۔ دل میں ایک بار پھر جوش آیا کہ ایک مرتبہ پھر مطالعہ کتبی کے لیے شوق پیدا کرنے کی کوہشش کی جائے۔

اب سوال یہ تھا کہ پڑھا کیا جائے۔ کسی صنف کی کتاب دل کو قرار دے گی۔ ادیبوں کی کتابیں تلاش کیں۔ آخر میرا دل ایک سفر نامے پہ آیا۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب کا سفرنامہ حج “منہ ول کعبے شریف” ڈاون لوڈ کیا۔ اور  پھر شروع ہوگئے۔ کتاب کی سطروں پر آنکھیں تو جیسے دوڑ لگانے لگ گئیں۔ تارڑ صاحب نے لکھا ہی اتنا کمال کہ بس پھر رہا نہیں گیا اور ایک ہی دن میں اسی صفحے پڑھ ڈالے۔  جی ہاں اس بار آخر میں نے اپنی ضدد چھوڑ ہی دی کہ کتابیں پڑھ کر کیا کرنا ہے۔
بس خواہش ہے کہ  اب میرا کتابوں سے عشق  پروان چڑھتا جائے۔ اگر آپ کو بھی میرے والی ضدد ہے تو ایک بار پھر کوہشش کریں۔ کیا پتہ اس بار کام بن جائے۔

Advertisements

3 thoughts on “ میں نے ضد چھوڑ دی

    • شکریہ۔ آپ سے ضرور رہنمائی لینا پسند کروں گا۔ عشق پھلنے پھولنے کے لیے وقت منگتا ہے اور دنیاداری سے وقت نکالنا بھی ایک جہد ہے۔ ابھی سوچا ہے ہے کہ سفرناموں سے ایک ذائقہ بنا لیا جائے۔ اس کے بعد بڑا سفر بھی کریں گے۔ انشاللہ۔

      Liked by 1 person

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s