سفر عمرہ ـ حصہ سوم

(حصہ دوم کے لیے یہاں کلک کریں۔)
مسجدِ نبوی میں نمازِ جمعہ  پڑھنے کا موقع ملا۔  میری خوش نصیبی کے مجھے رمضان المبارک کا ایک جمعہ مسجدِالحرام اور ایک  مسجدِ نبوی میں پڑھنے کا موقع ملا۔
وہ رات مدینے میں ہماری آخری رات تھی۔ دل میں کچھ اداسی بھی تھی کہ  مدینے سے رخصتی کا وقت آگیا ہے۔
؎   یاد جب مدینے کی آئے گی
آنکھیں پھر نم ہوجائیں گی
اگلی صبح  مسجدِ نبوی میں نمازِ فجر ادا کی اور روضہِ رسول ﷺ پر حاضری دی۔ مسجد سے نکلتے وقت سبز گنبد پر  ایک نظر ڈالی اور ہوٹل کے لیے روانہ ہوگیا۔
؎   اور کسی جانب کیوں جائیں، اور کسی کو کیوں دیکھیں
اپنا سب کچھ گنبدِ خضریٰ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

20160625_045746.jpg

گنبدِ خضریٰ

بس میں سامان رکھا اور مکہ کے لیے روانہ ہوگئے۔  بس میقات کے مقام  رُکی اور وہاں سارے مسافروں نے  احرام باندھا۔ بس پھر مکہ  کے لیے روانہ ہوئی۔ ہم دوپہر کو مکہ پہنچے۔ ہوٹل میں سامان رکھا کر عمرہ کرنے کے لئے مسجدِالحرام کی جانب روانہ ہوئے۔ نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد طواف کیا۔ پھر سعی کا عمل ادا کیا۔ روزہ افطار کیا اور باقی عمل مکمل کرکے بال منُڈوا کر احرام کھول دیا۔  اس طرح ہمارے دو عمرے مکمل ہوئے۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوچکا تھا۔ اور یوں لگتا تھا جیسے پوری دنیا کے مسلمان مکہ آگئے ہوں۔ ہوٹل بھر چکے تھے۔ نماز تراویح کے بعد لوگوں کا ایک سمندر مسجد الحرام سے نکلتا تھا۔
اگلے دن صبح طواف کیا اور شام کو جدہ جانے کا موقع ملا۔  جدہ ایک صاف ستھرا شہر ہے، نہ تو کوئی کوڑا کرکٹ اور نہ ہی ٹریفک کے مسائل۔جدہ میں بحیرہ قلزم بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے پہلی مرتبہ ساحلِ سمندر پہ لہروں کو دیکھا۔

چار گھنٹے جدہ دیکھنے کے بعد ہم مکہ واپس آگئے۔  شام کو مکہ ٹاور  مال گئے اور کچھ عطریات خریدے۔
اگلے دن طوافِ کعبہ کرنے کے بعد ہم چند زیارات پہ گئے۔ سب سے پہلے ہم مسجدِ جن گئے لیکن وہ اس وقت بند تھی۔  پھر ہم مسجدِ عائشہ  گئے۔
20160627_102756.jpg

شام کو نمازِ عصر کے بعد طوافِ زیارت کیا۔ اور پھر وہیں افطار کیا۔  ڈھیروں دعاؤں اور خانہ کعبہ پر  اچھی طرح آخری  نظر ڈالنے کے بعد ہم ہوٹل آگئے۔  اپنا سامان باندھا اور واپسی کی تیاری کرلی۔
آدھی رات کو ہاتھوں میں اپنا سامان تھامے مکہ کی سڑک پر کھڑے تھے۔ مکہ ٹاور  کے اوپر لکھے “اللہ” کو  دیکھا اور بس یہی خیال کے دنیا میں سب نے آنا اور جانا ہے۔ نام رہے گا تو صرف خدا کا۔

Snapchat-5478510142157036421.jpg

مکہ ٹاور

؎ مولا سعدؔ اور کیا چاہتا ہے
بس مغفرت کی عطا چاہتا ہے
بخشش کے طالب پر اپنا کرم کر
اللہ اکبر اللہ اکبر
صبح  بس نے ہمیں جدہ ائیرپورٹ پر چھوڑا اور ہم اپنی پرواز کے انتظار کرنے لگے۔
Snapchat-2231980824432156934.jpg
جہاز جدہ سے اُڑا اور دبئی میں لینڈنگ ہوئی۔
پھر پانچ گھنٹے  دبئی ائیرپورٹ پر گزارنے کے بعد ہم ملتان کے لیے روانہ  ہوئے۔ پورے سفر میں عربی زبان  بہت سننے کو ملی۔
Snapchat-6660152353678678491.jpg
رات کو اپنی سرزمین  واپس پہنچے۔  خدا کا لاکھ لاکھ شُکر کے اس نے ہمیں اس مقدس سفر کی سعادت سے نوازا۔
آخر میں بس جس دعاء سے  اس سفرنامے کی ابتدا ہوئی وہی کروں گا۔
“یا اللہ ہم سب کو اپنے گھر کا دیدار نصیب فرما، روضۂ رسول ﷺ کی حاضری نصیب  فرما”۔ آمین

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s