سفر عمرہ ـ حصہ دوم

(حصہ اوّل کے لیے یہاں کلک کریں۔)
اگلے دن  خانہ کعبہ کا طواف کیا اور  میری خوش نصیبی کہ مجھے  ہتیم میں نفل  پڑھنے کا موقع ملا۔  صرف یہی نہیں مجھے غلافِ کعبہ، دیوارِ کعبہ اور دروازے کو بوسہ دینے کا موقع ملا۔  ہجرِ اسود سے بس چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ لیکن رش کے باعث بوسہ نہ دے سکا۔ لیکن  اشارے سے بوسہ دے دیا۔
؎   یاد آگئی جب اپنی خطائیں
اشکوں میں ڈھلنے لگی التجائیں
رویا غلافِ کعبہ پکڑ کر
اللہ اکبر اللہ اکبر
شام کو پھر اسی طرح افطار کی۔ وہاں پر دنیا کی سب سے بڑی افطاری ہوتی ہے اور پانچ منٹ میں ہی سب کچھ سمیٹ لیا جاتا ہے۔
عرب صحرائی ملک ہے اس لیے وہاں شدید گرمی پڑتی ہے اور پورا سال گھروں اور ہوٹلوں میں گرم پانی آتا ہے۔
جمعہ کے دن صبح ہی حرم پاک میں جا کر طواف کیا اور وہیں بیٹھ گئے۔ وہاں اگر آپ کے پاس ریڈیو ہو تو آپ جمعہ کا خطبہ اردو میں بھی سن سکتے ہیں۔ تیس لاکھ لوگوں کے ساتھ  حرم پاک میں  نماز جمعہ ادا کرنا بھی ایک سعادت ہے۔
نماز جمعہ کے بعد ہوٹل آئے اور اس کے بعد بس  دل میں انتہا کی خوشی کہ آؤ مدینے چلیں،  آؤ مدینے چلیں۔ سامان بس میں رکھا اور مدینے کی جانب روانہ ہوگئے۔  زیادہ سے زیادہ پانچ گھنٹے والا سفر اس بس نے ہمیں  آٹھ گھنٹے میں کروایا۔ اس سفر میں یہ دیکھا کہ پورا  عرب صحرا ہے۔  آپ اس سفر کو سو کر بھی گزار سکتے ہیں۔ لیکن میں آپ کو کہوں گا کہ اس سفر میں نعتیں سنیں۔
؎  میں مدینے چلا،  میں مدینے چلا
پھر کرم ہوگیا  میں مدینے چلا
میرے آقا کا در ہوگا  پیشِ نظر
چاہیے اور کیا،  میں مدینے چلا
؎ بڑی امید ہے سرکار قدموں میں بلائیں گے
کرم کی جب نظر ہوگی مدینے ہم بھی جائیں گے
؎  مے کشو آؤ آؤ مدینے چلیں
آؤ مدینے چلیں،  اسی مہینے چلیں
یاد رکھو اگر  اٹھ گئی اک نظر
جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے
14141493_1354561561235872_5620282193182333118_nرات کے بارہ بجے اس بس والے نے سب سے آخر میں ہمیں  ہوٹل چھوڑا۔  ملتان کے بعد مدینہ میں وائی فائی  ملا۔ میرے موبائل نے تو جیسے نوٹیفکیشن کی بارش شروع کردی۔  جب مسجدِ نبوی  میں داخل ہوتے تو وہاں کی فضاء الگ ہی معلوم ہوتی۔
؎   رمضان کی بہاریں آئی ہیں
بخشش کا مجدا لائی ہیں
رحمت کی گھٹائیں برسی ہیں
بیٹھا ہوں مسجد نبوی  میں
آپ کو مسجدِ نبوی  کے افطار کے مناظر بیان کرتا ہوں۔
آپ  کبھی اپنے گھر کے باہر کھڑے ہوجائیں اور  جو بھی آپ کے گھر کے سامنے  سے  گزرے آپ اس کو افطار کروائیں۔ جی ہاں کچھ اسی طرح کے مناظر مسجدِنبوی  کی افطار کے ہوتے ہیں کہ ہر  گزرتے آدمی کو پکڑ پکڑ کر افطار کے لیے لے جا رہے ہوتے ہیں۔ اور اس سب مہمان نوازی کے بدلے صرف دعاؤں کی التجا کرتے ہیں۔  اور افطار کے بڑے بڑے دسترخواں ہوتے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد مسجدِنبوی  میں افطار کرتی ہے۔  IMG_20160620_185615103.jpgہمارے معاشرے کا سچ تو یہ ہے کہ ہم سیاہ فام لوگوں کو اپنے سے کم تر سمجھتے ہیں۔ لیکن یقین مانیں میں نے خود اپنی آنکھوں سے افطار کے وقت  ان لوگوں کا جذبہ مہمان نوازی دیکھا کہ کیسے وہ سب کو افطار کروا رہے ہوتے ہیں۔ وہ لمحے یاد رہیں گے جب میں افطار کر رہا ہوتا اور میرے بائیں جانب سبز گنبد تھا۔
؎  نظریں ہیں گنبدِ خضریٰ پر
ہاتھوں میں کھجور مدینے کی
افطار کی گھڑیاں آئی ہیں
بیٹھا ہوں مسجد نبوی  میں
20160621_190048.jpgمکہ اور مدینہ میں نماز کے وقت 
تمام کاروبار بند ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک  کہ طوافِ کعبہ بھی رْک جاتا ہے۔
مسجدِنبوی  میں ریاض الجنتہ میں جانے کے لیے لوگوں کے ہجوم کا سامنا  کرنا پڑتا تھا۔  پہلی مرتبہ جب میں وہاں گیا تو  ہجوم کے باعث نفل  پڑھ کر  اور روضہِ رسول ﷺ پر سلام کہہ کر  باہر نکل گیا۔ لیکن پھر جب ایک دن بعد دوبارہ وہاں جانے کا موقع ملا تو میری یہ خوش نصیبی کہ مجھے ممبرِ رسول ﷺ  پر نفل پڑھنے کا موقع ملا۔

Screenshot_2016-06-23-16-51-14.png

ممبرِ رسول ﷺ

مدینے میں قیام کے دوران کئی مرتبہ روضہِ رسول ﷺ پر سلام کہنے کا موقع ملا۔ ایک مرتبہ تو روضہِ رسول ﷺ کی سنہری  جالیوں کے سامنے نفل پڑھنے کا موقع ملا۔
مدینہ میں مختلف زیارتوں پہ جانے کا موقع بھی ملا۔  ان میں مسجدِ قباء جو کہ دینِ اسلام کی سب سے پہلی مسجد ہے۔ وہاں پر نفل  پڑھے۔ مسجدِ قبا میں نفل  پڑھنے کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے۔  

20160619_062509.jpg

مسجد قباء

اس کے بعد ہم مسجدِ خندق گئے اور وہاں نفل ادا کیے۔  

20160619_072421.jpg

مسجد الخندق۔

پھر ہم مسجدِ قبلتین گئے۔ یہ وہ مسجد ہے جہاں دورانِ نماز وحی نازل ہوئی تھی  کہ قبلہ کا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کردیا جائے۔  آپ کو اسی  متعلق ایک واقعہ سناتا چلوں۔ حضور اکرم ﷺ مسجدِ قبلتین میں نماز پڑھا رہے تھے  اور حضرت علی ؓ ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے کہ  قبلہ کا رُخ بیت المقدس سے بیت اللہ موڑنے کی وحی نازل ہوئی۔  رسولِ خدا ﷺ نے اپنا رُخ موڑا تو حضرت علیؓ نے بھی اطاعتِ مصطفیٰ میں اپنا رُخ تبدیل کرلیا۔  نماز ختم ہوئی تو لوگوں نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ اس وقت تک تو رسول خدا ﷺ کے  سوا کسی کو معلوم نہیں تھا کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم آیا ہے۔ آپؓ  نے اپنا رُخ اتنی جلدی کیسے تبدیل کرلیا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا “ہم نہ تو بیت المقدس کو جانیں، نہ بیت اللہ کو جانیں، ہم  تو صرف رُخِ مصطفیٰ کو جانیں۔ جدھر رُخِ  مصطفیٰ ہوجائے، وہی علیؓ کا قبلہ ہوجائے”۔ 

20160619_075317.jpg

مسجد قبلتین

اس کے بعد ہم مدینے میں کھجوروں کے باغات گئے۔

20160619_083217.jpg

مدینے میں کھجور کے  باغات۔

 پھر ہم احد کی پہاڑی  اور 70 صحابہ کرامؒ   کی قبر پر بھی گئے۔

20160619_091700.jpg

ستر صحابہ کرامؓ کی اجتماعی قبر۔

 

20160619_091457.jpg

احد کی پہاڑی۔

(حصہ سوم کے لیے  یہاں کلک کریں۔)

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s