سفر عمرہ ـ حصہ اوّل

”یا اللہ ہم سب کو اپنے گھر کا دیدار نصیب فرما، روضۂ رسول ﷺ کی حاضری نصیب  فرما”۔ کچھ ایسے ہی الفاظ میں مولوی صاحب ہر جمعہ نماز کے بعد دعا کرواتے تھے اور میں ہر بار زور سے آمین بولتا۔  آج بھی میں سوچتا ہوں  کہ کتنا قیمتی لمحہ ہوگا وہ کہ میری آمین قبول ہوگئی اور مجھے کم عمری میں ہی رمضان میں عمرہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: ”رمضان میں عمرہ کرنا  (اجر اور ثواب میں) حج کرنے یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے”۔  (صحیح بخاری) (صحیح مسلم) (سنن نسائی)

میں اپنے سالانہ امتحانات سے فارغ ہوا تو رمضان کا آغاز ہوچکا تھا۔ پھر بس اس سفر کی تیاری  شروع کردی۔  ۱۳ جون ۲۰۱۶؁ء بروز سوموار ہماری  پرواز ملتان ائیرپورٹ سے تھی۔  اکثر سوموار کو میری ایک ہی حالت ہوتی ہے کہ اب پھر پورا ہفتہ  کام کرنا پڑے گا۔ لیکن اس سوموار تو اپنے اندر ایک قوت  محسوس کر رہا تھا۔ خوشی کی انتہا نہ تھی۔ یہ میرا پہلا غیرملکی سفر اور پہلا ہوائی سفرتھا۔ جہاز  نے ملتان سے اْڑان بھری اور  رات گئے دبئی پہنچے۔

Snapchat-8846298296113441150.jpg

ملتان انٹرنیشنل ائیرپورٹ

پھر جہاز سے باہر نکل کر پہلی بار کسی دوسرے ملک کی حدود میں قدم رکھا۔ ہماری اگلی پرواز میں پانچ گھنٹوں کا وقفہ تھا۔ اس لیے ہم دبئی ایئر پورٹ  کے شاپنگ مال کا جائزہ لیتے رہے۔ 

20160614_033518.jpg

دبئی ائیرپورٹ مال

آخر وہ رات بھی گزر گئی۔ پھر دبئی ایئرپورٹ پر ہی احرام بندھا اور نمازِ فجر کے بعد عمرہ کی نیت کرلی۔  دبئی میں پہلی مرتبہ سورج کو طلوع ہوتے دیکھا۔ پھر آخر اگلی پرواز جدہ کے لیے روانہ ہوئی جس کے پورے سفر میں لوگ  “لبیک اللهم لبیک”  کی صدا لگاتے رہے۔ جدہ میں لینڈ ہونے کے بعد ہمیں بس کے ذریعہ حج ٹرمینل لے جایا گیا جہاں امیگریشن  کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہم سامان لے کر ائیرپورٹ سے  نکلے اور بس کے ذریعہ مکہ المکرمہ کے لیے روانہ ہوئے۔  20160628_101707

 

Snapchat-8700136734501086041

شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ائیرپورٹ جدہ

بس تقریباً ڈیڑھ بجے مکہ پہنچی اور ہم ہوٹل ساڑے تین پہنچے۔ اس کی ایک  وجہ تو یہ ہے کہ کنڈکٹر  میاں گھر سے ہی یہ سوچ کر آئے تھے کہ ان کو سب سے آخر میں اتارنا ہے۔ دوسری وجہ ٹریفک بلاک تھی۔ خیر ہم باحفاظت اپنے ہوٹل  پہنچ گئے۔ سامان وغیرہ رکھ کر ہم  حرم پاک کی طرف روانہ ہوئے۔ نماز عصر  کبوتر چوک پر ہی  پڑھنے کا موقع ملا۔ وہاں شدید گرمی کی وجہ سے سڑک تپ رہی ہوتی ہے لیکن پھر بھی لوگ  سڑک پر نماز پڑھتے ہیں۔

20160616_163259

کبوتر چوک مکہ المکرمہ

20160616_175541-1

پھر ہم گلیوں سے ہوتے ہوئے حرم شریف میں داخل ہوئے۔  20160616_16422920160616_164236اس کے باب فہد سے مسجد میں داخل ہوئے۔

Snapchat-3473264252663607563.jpg

باب فہد مسجدالحرم

رمضان کی وجہ سے لوگوں  کا بہت ہجوم  تھا۔ لیکن نگاہیں نیچی رکھے آگے بڑھتے رہے۔ بس پھر کیا  جب نظر اٹھی اور خانہ کعبہ کو اپنے سامنے دیکھا تو اس کے بعد نظر نہ ہٹی۔ وہاں جب کعبہ پر پہلی نظر پڑھتی ہے تو ممکن ہی نہیں کہ آنکھیں نم نہ ہوں۔ جب میں نے کعبہ کو اپنے سامنے پایا تو  آنکھیں نم ہوگئیں اور اندر سے ایک آواز آئی کہ درمیان سے سارے دنیاوی پردے ہٹ جائیں آج بس خدا اور بندہ سامنے ہوں۔ میں نے آج تک اپنے اندر کچھ ایسا محسوس نہیں کیا تھی۔  20160627_093533؎ حسرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں
اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو
لایا  کہاں مجھ کو میرا مقدر
اللہ اکبر اللہ اکبر
پھر ڈھیروں دعایں کرنے کہ بعد مطاف (طواف کرنے والی جگہ) میں طواف کرنے کے لیے داخل ہوئے۔
؎   قطرے کو جیسے سمندر سمیٹے
مجھ کو مطاف اپنے اندر سمیٹے
20160627_090742.jpgدرمیانی رفتار سے چکر لگاتے اور ہر چکر میں ہجر اسود کو اشارے سے بوسہ دیتے۔
؎   بھیجا ہے  جنت سے تجھ کو  خدا نے
چوما ہے تجھ کو میرے مصطفیٰ نے
اے  ہجر اسود تیرا مقدر
اللہ اکبر اللہ اکبر

Screenshot_2016-07-20-16-01-04-1.png

حوالہِ تصویر: دارلسلام پبلشرز

طواف کے بعد افطار کا وقت ہوگیا۔ ہم نے وہیں افطار کی۔ وہاں افطاری میں کھجوریں اور زم زم  دیا جاتا ہے۔ میں نے لوگوں کو  اپنا کھانا  دوسروں کے ساتھ بانٹتے دیکھا۔ اور جب میزبان خدا ہو تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اسی کے گھر سے خالی پیٹ جائے۔ ہمیں کوئی دو گھونٹ زم زم تبرک  میں دے دے تو ہم بہت تمیز کے ساتھ پیتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں۔ لیکن وہاں تو  آپ  گلاس بھر بھر کر خوب پی سکتے ہیں۔ بات یہاں پر رکتی نہیں وہاں تو لوگ زم زم سے وضو کر رہے
ہوتے ہیں ۔
نماز مغرب کے بعد  سعی کے عمل کے لیے صفا پر پہنچے۔  پھر  صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ اس عمل سے وہ زم زم والا واقعہ یاد آجاتا ہے۔
؎   دیکھا صفا بھی، مروہ بھی دیکھا
رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھا

20160627_093212.jpg

سعی کا عمل کرتے عمرہ زائرین

نماز عشاہ کی ادائیگی کے بعد حرم سے نکل کر  بال منڈوا دیے۔ اب ایسے  کیسے ہوسکتا تھا کہ ہمارا پہلا دن ہو اور گم نہ ہوں۔ ارے صاحب کوئی مکہ کی گلیوں میں گم ہو اور وہ اس کو بھول کیسے سکتا ہے۔ دل تو یہی کرتا ہے ہروقت مکہ مدینہ کی گلیوں میں گم رہوں۔خیر ہوا یہ کہ حرم کے 99 دروازے ہیں ہم ایک دروازے سے داخل ہوئے تھے اور ٹھیک اس کی سیدھی سمت والے دروازے سے باہر نکلے۔  مطلب یہ کہ ہم حرم کے ایک طرف سے داخل ہوئے تھے اور دوسرے طرف سے باہر نکلے۔ جس کسی سے ہوٹل کا پوچھا وہ کہتا کہ آپ بہت دور آگئے ہیں۔ ٹیکسی والے بھی رات کے اس وقت جانے سے انکار کر رہے تھا۔ ایسے میں رہنمائی  کے فرائض میں نے سنبھالے اور عربی شتروں سے راستہ پوچھتا رہا۔ پوری مسجد کا چکر لگا کہ ہم  دوسری جانب سے باہر نکلے۔ مسجد بہت بڑی ہے۔ آخر ہمیں ہوٹل مل گیا۔ اس واقعہ کے بعد ہم نے دروازے کی نشانی لگا لی پھر شکر اس کے بعد گم نہیں ہوئے۔
سعودیہ کے تمام چیزیں خالص تھیں۔ مجھے  جوس پیتے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ پاکستان میں ہم جو  پیتے  ہیں وہ خالص  نہیں ہوتا۔ آخر ان کی کامیابی کی وجہ بھی تو یہی ہے کہ وہ تجارت اور لین دین میں ایمانداری سے کام کرتے ہیں۔
آخر اس لمبے دن کا اختتام ہوا  دبئی سے جدہ، جدہ سے مکہ، پھر عمرہ اور آخر میں مکہ کی گلیوں میں گم ہونا۔
(جاری ہے۔۔۔)
(حصہ دوم کے لیے  یہاں کلک کریں۔

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s