میں نے دیکھا ناران

یہ زندگی ایک سفر ہے۔

 کبھی سوچا  ہے کہ پاکستان کتنا حسین ہے؟
نہیں!
چلیں آج  آپ کو  الفاظ کے ذریعے ناران کی سیر کرواتا ہوں-
سفر سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اس سال جولائی میں خوش قسمتی سے پانچ سال بعد پاکستان کے شمالی حصے میں جانے کا موقعہ ملا۔ بہت خوشی تھی کہ اتنے لمبے عرصے بعد موٹروے ایم ٹو پر سفرکریں گے۔دوسروں کے لیے یہ عام بات ہو مگر  مجھے  اسلام آباد جاتے ہوئے پہاڑوں کے درمیان کی موٹروے بہت  پسند ہے۔

17 (600 x 303)
ہمارے سفر کا آغاز چھوٹی عید کے دوسرے دن ہوا۔  ہم نے چیچہ وطنی کے بعد گوجرہ  موٹروے کا راستہ اختیار کیا۔  یہ سفر وقفوں کے ساتھ ساتھ جاری رہا۔ اسلام آباد موٹروے پر سالٹ رینج آتے ہی میں نے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر قبضہ کیا اور  اپنا کیمرہ لے کر ان مناظر کو محفوظ کرنے میں مصروف ہوگیا۔ كلر كہار کے مقام پر بارش نے ہمیں ویلکم کیا۔

DSC01498 (600 x 450)
آخرکار ہم شام کے وقت اسلام آباد پہنچے۔ چند گھنٹے آرام کے بعد ہم پاکستان  کے مشہور مال سینٹورس گئے۔  وہاں داخل ہوکر میں بھول گیا کہ پاکستان میں ہوں۔ دراصل میں نے آج سے پہلے ایسا مال نہ دیکھا تھا۔ کیونکہ بہاول پور میں ایسا مال ہے ہی نہیں۔ اور ہاں اسی رات میٹرو کی سواری بھی کی۔ دھکے کھانے کے بعد جا کر ٹکٹ اور سیٹ ملی۔

DSC01620 (600 x 388)
22

اگلے دن صبح ناران کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ سفر بھی تھکا دینے والا تھا۔ اس سفر میں ہمارا واسطہ ایبٹ آباد کے ٹریفک بلاک سے بھی ہوا۔ سفر میں کبھی چڑھائی تو کبھی اترائی کبھی سیدھی سڑک تو کبھی خطرناک موڑ۔ ہماری زندگی بھی ایسی ہی ہے۔ کبھی ہم وقت کو اچھا سمجھتے ہیں تو کبھی  برا۔

DSC01676 (599 x 600)
DSC01752 (600 x 450)
DSC01774 (450 x 600)

آخرکار شام کو ناران پہنچے۔ عید کی چھٹیاں ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد ناران  آئی ہوئی تھی۔ ناران داخل ہونے سے لے کر ہوٹل تک جانے میں ہی دو گھنٹے لگ گئے۔ مگر وہاں کے موسم نے سفر کی ساری تھکاوٹ ختم کردی۔ پھر کیا ہوٹل میں سامان رکھ کر نکل پڑے تھوڑی سیر پہ۔

DSC01839 (600 x 400)
اگلے دن ہم جھیل سیف الملوک کے لیے نکلے۔ ہوٹل سے لے کر سیف الملوک تک کا سفر شاید میری زندگی کا سب سے خطرناک سفر تھا۔ راستے میں دو مرتبہ جیپ خراب ہوئی۔ انتہائی خطرناک راستہ تھا۔ ہر کسی کو یہی ڈر تھا کہ جیپ نیچے نہ گر جائے۔ میں نے اس ڈر کو خوب انجوائے کیا۔  سفر کے دوران ٹریفک بھی بلاک ہوئی تھی۔

DSC01948 (600 x 450)

پھر آیا سیف الملوک کا مقام۔ گھر سے اتنا دور اس حسین جگہ کو دیکھ کر دل خوش اور زہن تازہ ہوگیا۔ موسم بہت پیارا تھا۔ میں نے ایسے منظر کی تصاویر بنانا شروع کردیں۔ پہلی مرتبہ قدرتی برف سے کھیلنے کا موقع ملا۔ 01
DSC01892سیف الملوک سے واپس آکر ہم نے ناران کے دیگر مقامات کی سیر کی۔  کبھی پہاڑ پر چڑھا تو کبھی دریائے کنہار کے پانی سے لطف اندوز ہوا۔ ہم نے بابوسر ٹاپ بھی جانا تھا مگر وہاں کا راستہ کسی وجہ سے بند تھا۔ رات کو ہم ناران کی مال روڈ پر پھرتے رہے۔

DSC02020 (450 x 600)
DSC01811 (600 x 425)
6tag-1424963557-1067868460798155143_1424963557
ہمارا ناران کا سفر مختصر تھا۔ اگلے دن ہم نے اسلام آباد واپسی کا راستہ اختیار کیا۔ واپسی پر گلیشیر اور چشموں سے بھی واسطہ پڑتا رہا۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشیر بہت تیزی سے پگھل رہے تھے۔ جب ایبٹ آباد پہنچے تو وہاں کے پہاڑ ناران  کے پہاڑوں کے سامنے کچھ  بھی نہ تھے۔ ناران کے پہاڑ  تو آسمانوں کو چھو رہے تھے۔

DSC01862 (600 x 450)
DSC01708 (600 x 473)
DSC02051 (600 x 450)
 ہم دوپہر کے وقت اسلام آباد پہنچے۔ اور آرام کو ترجیح دی۔ اگلے دو دن ہم نے اسلام آباد کے بہت سے مقامات کی سیر کی۔ ان میں فیصل مسجد، یادگار پاکستان، مونال ریسٹورینٹ، جناح سپر مارکیٹ، سفا گولڈ مال، شاہدراہ لیک وغیرہ شامل ہیں۔

DSC02231
DSC02213
DSC02076
27
03آخر ہمارا یہ سفرختم ہوا۔ اور ہم نے گھرکا راستہ اختیار کیا۔

DSC01452 (450 x 600)
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں.

Advertisements

One thought on “میں نے دیکھا ناران

  1. Pingback: ایک سوچ | Saad Khalil

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s