زبان اور الفاظ

زبان اللہ کی وہ نعمت ہے جس کے ذریعے ایک انسان اپنے احساسات اور خیالات کو دوسروں تک منتقل کرتا ہے۔ انسان کی زبان سے نکلتے ہوئے الفاظ اس کی شخصیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ زبان اور الفاظ ہی کی بنا پر انسانی رشتے مضبوط یا کمزور پڑتے ہیں۔ گفتگو سے ہی انسان کے اخلاق کی پہچان ہوتی ہے۔ ہم آج اگر پاکستان کے ماضی کو دیکھیں تو ہمیں وہ الفاظ سنائی دیتے ہیں جو تاریخ کا حصہ بن گئے۔ کبھی مارشل لا تو کبھی جنگ کا اعلان۔ زبان کے ذریعے اپنے پیغام کو پہنچانے کی آزادی ہر شخص کو حاصل ہے۔ اگر انسان کا اپنی زبان پر قابو ہو تو وہ ہر میدان میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ سوال پوچھنا ہر کسی کا حق ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں سے ان کی کارکردگی کے بارے میں پوچھیں۔ طلب علم پر لازم ہے کہ وہ سوال کرے۔ سوال محظ ایک فقرہ نہیں بلکہ جاننے کی جستجو کا نام ہے۔ میرے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ جو زیادہ پوچھتا ہے وہ زیادہ سیکھتا ہے۔ زبان سے بات کہتے وقت ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے کسی کا دل دکھے۔ ہمیں کسی کے لیے بھی ناشائستہ الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے۔ اسلام نے ہمیں گفتگو کے آداب سکھائے ہیں۔ میٹھے اور اچھے الفاظ پیار کو پھیلاتے ہیں جبکہ ناشائستہ الفاظ نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s